منگل 3 نومبر 2026 - 05:13
فارسی الفاظ کی تحقیق سے تہذیبوں کے باہمی روابط آشکار ہوتے ہیں:ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری

حوزہ/مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ہندوستان میں عالمی جنوب کے تہذیبی و ادبی روابط پر سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز کیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کانفرنس کا موضوع ’’نیٹ ورکس اینڈ اینٹینگلمنٹس: ایکسپلورنگ سویلائزیشنل انٹرٹیکسچوالٹی اِن دی گلوبل ساوتھ‘‘ (شبکے اور باہمی روابط: عالمی جنوب میں تہذیبی بین المتونی روابط کا مطالعہ) ہے۔

یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) میں منعقدہ سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فارسی الفاظ کی اشتقاقی تحقیق سے مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان دلچسپ روابط سامنے آتے ہیں، جو صدیوں پر محیط لسانی استفادے، تہذیبی میل جول اور علمی تبادلوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری نے ’’ابتدائی جدید ہندوستان میں فارسی قواعد‘‘ کے موضوع پر پہلے کلیدی خطاب میں کہا کہ فارسی الفاظ اور ان کے اشتقاقی مطالعے سے فارسی، سنسکرت، ہندی، عربی، سریانی، قبطی اور عبرانی زبانوں کے درمیان بین المتونی روابط کا انکشاف ہوتا ہے۔

مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی میں عالمی جنوب کے تہذیبی و ادبی روابط پر 3روزہ بین الاقوامی کانفرنس:فارسی الفاظ کی تحقیق سے تہذیبوں کے باہمی روابط آشکار ہوتے ہیں:ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری

انہوں نے مغلیہ ہندوستان میں فارسی علوم و ادب کے عالمگیر کردار کو اجاگر کرتے ہوئے سنسکرت کے ساتھ اس کے علمی و ادبی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہندوستان، سلطنتِ عثمانیہ اور چین میں فارسی قواعد و لسانیات کی روایات کے ارتقا کے ساتھ اردو اور فارسی کے باہمی تعلق کا بھی جائزہ لیا۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت مانو کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کی۔ برطانوی مستشرق سر ولیم جونز کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے، جنہوں نے فارسی اور ہندوستانی ادبی کلاسیکی تصانیف کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ’’مجمع البحرین‘‘ کے مصنف دارا شکوہ آج زندہ ہوتے تو شاید وہ دو نہیں بلکہ کئی سمندروں کے سنگم پر اپنی تحریر پیش کرتے۔ ان کا یہ بیان تہذیبوں کے تنوع اور ان کے باہمی ارتباط کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار نے استقبالیہ خطاب پیش کیا، جبکہ کانفرنس کے کنوینر پروفیسر سید امتیاز حسنین نے اس کے اغراض و مقاصد اور موضوعات کا تعارف کروایا۔

یہ بین الاقوامی کانفرنس مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز (سی آئی آئی ایل)، میسورو کے علمی اشتراک سے 2 تا 4 نومبر 2026ء منعقد کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر نومبر 2025ء میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’اردو، ہندی، عربی اور فارسی: لسانی، ادبی، تہذیبی اور علمی تبادلوں کے تناظر میں تہذیبی ہم آہنگی‘‘ میں پیش کیے گئے مقالات کی تلخیص پر مشتمل کتاب کی بھی رسمِ اجرا انجام پائی۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر پیگی موہن، ڈاکٹر مختار احمد، پروفیسر پنچانن موہنتی اور پروفیسر سنگیتا بگّا گپتا کی تصانیف بھی جاری کی گئیں۔

کانفرنس کی ڈائریکٹر پروفیسر گل فشاں حبیب نے کلماتِ تشکر ادا کیے، جبکہ نظامت کے فرائض کانفرنس کے شریک کنوینر پروفیسر محمد السمیع صدیقی نے انجام دیے۔

مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی میں عالمی جنوب کے تہذیبی و ادبی روابط پر 3روزہ بین الاقوامی کانفرنس:فارسی الفاظ کی تحقیق سے تہذیبوں کے باہمی روابط آشکار ہوتے ہیں:ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha